نئی دہلی،10/اکتوبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ماہرین نے چینی کمپنیوں جیسے ہواوے اور زیڈ ٹی ای کے متعلق یہ اس پہلو کی حمایت کی ہے کہ ملکی سلامتی کے تحت دیگر شعبوں میں شمولیت کیلئے راہیں استوار نہ کرے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ وکرم سو۔ نے کہا ہے کہ جب تک چین کا بھارت کے متعلق رویہ نہیں بد لتا، ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ سود نے کہا کہ ہواوے کے چہرے کے پیچھے چینی حکومت اور فوج کھڑی ہے۔ ایسی مشکوک کمپنیوں کو ٹیلی کام جیسے حساس علاقہ میں شمولیت کی اجازت دینا ملکی سلامتی کیلئے نہایت ہی خطرناک ہے۔خیال رہے کہ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹیلی کام کمپنیاں 5 جی ٹرائل کے لئے اسپیکٹرم کے اطلاق کا مطالبہ کررہی ہیں۔ تاہم حکومت نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ سود کی حالیہ کتاب کی اشاعت ہوئی ہے، جس میں انہو ں نے لکھا ہے کہ ہواوے آزاد کمپنی ہونے کا بہانہ کرتا ہے، لیکن حقیقتاً وہ آزادکمپنی نہیں ہے؛بلکہ اس کے عقب میں چینی حکومت اور فوج کھڑی ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے ہواوے اور دیگر چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ سرحد پر تعطل کے بعد حکومت نے پڑوسی ملک کی طرف سے کسی بھی قسم کی غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق قوانین سخت کردیئے ہیں۔ چین کی کئی ٹکنالوجی کمپنیوں، جیسے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ہواوے اور زیڈ ٹی ای کے متعلق بھی حکومت کا موقف سخت ہوگیا ہے۔انٹیلی جنس کے سابق چیف سود کے مطابق کرونا کے بعد چین کے چہرے سے ماسک اتر گیا ہے،یہ تصور ختم ہوگیا کہ کمیونسٹ ملک اس کے حکمراں ہے، اس لئے چینی کے اس رویہ کے تحت 5 جی اور دیگر شعبوں میں چینی کمپنیوں کے کاروباری مفادات مجروح ہوں گے۔خیال رہے کہ سود 31 سال تک انٹیلی جنس ایجنسی میں خدمات انجام دینے کے بعد مارچ 2003 میں ریٹائر ہو ئے تھے۔